اسلام آباد (streamhours) العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کے طلبی اشتہارات لندن کے دو اخبارات میں جاری کرنے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ کل وفاق کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاق کی برطانوی اخبارات میں نواز شریف


کے اشتہارات جاری کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دورکنی بنچ سماعت کرے گا۔ درخواست اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے کہ نواز شریف کے اشتہارات لندن کے دو اخبارات میں شائع کئے جائیں، درخواست میں لندن کے ڈیلی ٹیلی گراف اور ڈیلی گارجین میں نواز شریف کا اشتہار جاری کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ نیوی کے وکیل نے 1981 میں بحریہ فاؤنڈیشن کی اجازت کا وفاقی حکومت کا نوٹیفکیشن پیش کردیا۔ عدالت نے نیوی وکیل سے استفسار کیا کہ کیا بحریہ فاؤنڈیشن ابھی موجود ہے؟۔ وکیل ملک قمر افضل نے جواب دیا کہ جی بحریہ فاونڈیشن ابھی بھی کام کر رہی ہے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے نیوی وکیل سے استفسار کیا کہ کون سے قانون کے تحت پاکستان نیوی زمین خود خرید سکتی ہے، یہ بزنس آپ کی فاؤنڈیشن کس طرح کر سکتی ہے؟۔ وکیل ملک قمر افضل نے جواب دیا کہ پاکستان نیوی نہیں بلکہ وہ ڈائریکٹوریٹ ہے اور وہ اپنے کام میں آزاد ہے اور بحریہ فارمز بحریہ فاؤنڈیشن کا پراجیکٹ تھا۔ جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر یہ کسی سے قرض لیتے ہیں اور وہ ڈیفالٹ ہو جائے تو کیا کیس نیول چیف کے خلاف بنے گا؟ آپ نے جو پڑھا ہے اس کے مطابق کسی غلطی کی ذمہ دار تو یہ کمیٹی ہوگی، قانون سب کے لیے برابر ہے کوئی قانون سے بالاتر نہیں، اس طرح تو اس میں شہریوں کے بنیادی حقوق شامل ہوجاتے ہیں، کیا آپ ٹریول ایجنسی بھی چلاتے ہیں؟ کیا ابھی بھی یہ چل رہی ہے؟۔ نیوی وکیل نے جواب دیا کہ مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچر) کے ذریعے ہے ابھی تفصیلات میرے پاس نہیں۔









Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں