لاہور(streamhours) بڑے میڈیا گروپ اور روزنامہ کے چیف ایڈیٹر ارشاد عارف نے پروگرام ’’ کراس ٹاک‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں نواز شریف اس وقت انتہائی مایوس اور مشتعل ہیں،وہ یہ سمجھتے تھے کہ جب پچھلے سال جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کا ایشو تھا،اس پر اپنی پارلیمانی پارٹی کو حکم دیا کہ


آپ نے غیر مشروط طور پر حمایت کرنی ہے ،جب پارٹی میں سوال اٹھا اور خواجہ آصف سے کہا گیا کہ آپ ہمیں یہ حکم دے رہے ہیں تو انہوں نے ٹی وی پر کہا کہ یہ میں نے حکم نہیں دیا، یہ میاں نوازشریف کا حکم تھا کہ آپ نے غیر مشروط طور پر جو بھی مسودہ قانون حکومت پیش کرے گی ہم اس کو تسلیم کرینگے ۔اس کے بدلے میں کم از کم مجھے یہ رعایت ملے گی کہ میری صاحبزادی کو لندن بھیج دیا جائیگا،فضل الرحمان اور نوازشریف توقعات لگا کر بیٹھے تھے ،میاں نوازشریف دوران اقتدار اپنی کوئی غلطی ماننے کو تیار نہیں اور اپنی ہر غلطی کا ذمہ دار دوسروں اور خاص طور پر فوج کو قرار دیتے ہیں ، اگر حکومت پاکستان کوشش کرے تو ممکن ہے کسی سٹیج پر وہ حکومت برطانیہ کو قائل کرلے یہ ہمیں واپس چاہئے ۔نوازشریف ایک بیانیہ بنا رہے ہیں کہ میں کوئی ملزم یا اشتہاری نہیں ہوں بلکہ میں ایک سیاسی شخص ہوں جو فوج کو للکار رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اپنی حدود میں کام کرو۔مجھے واپس جا کر فوجی ا نتقام کا نشانہ بنایا جائیگا اس لئے مجھے واپس نہ بھیجا جائے ۔وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ میں نے تو اب اقتدار میں آنا نہیں ۔اس لئے اس ملک میں ایسے حالات پیدا کردئیے جائیں تاکہ فوج کو براہ راست مداخلت کرنی پڑے ۔یہ امکان موجود ہے کہ ن لیگ میں ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے ۔ سینئر تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے کہا کہ نوازشریف نے گوجرانوالہ جلسے میں خود کو شیخ مجیب ا لرحمان بنانے کی کوشش کی ہے ۔نوازشریف کا بیانیہ مایوسی کی علامت ہے ۔تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے کہا ہے کہ نوازشریف اس وقت بانی ایم کیوا یم بن چکے ہیں،یہ قوم کو اپنے اداروں کیخلاف اکسا رہے ہیں ۔نوازشریف کو ہرصورت وطن واپس لایا جائیگا ۔سینئر تجزیہ کار شاہد لطیف نے کہا کہ نوازشریف جو لگا تار تقاریر کررہے ہیں، وہ غیر ملکی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ پی ڈی ایم کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا ۔









Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں