لاہور (streamhours)وہ تقریر تقریباً ویسی تھی جیسی کسی زمانے میں ایم کیو ایم کے بانی کیا کرتے تھے۔ بس تھوڑا سا فرق تھا کہ اس میں قومی ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا تو اس کا سربراہ ٹارگٹ بنایا گیا تھا اور تقریر میں اس کا نام بیسوئوں مرتبہ لیا گیا۔ اسے خوفناک انجام کی نوید سنائی گئی،


نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ حساب کتاب کی باتیں کی گئیں۔ سوباقی اپوزیشن اس معاملہ پر خاصی پریشان ہے ۔ پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر کے مطابق ’’ہم اس بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘۔باقی سیاسی پارٹیاں بھی اُس تقریر کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔ سو اپوزیشن کے محاذ میں ابھی سے شگاف پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق آخر کار وہ وقت آ ہی گیا ہے کہ جب شہباز شریف اور نواز شریف کے راستے سچ مچ جدا ہو گئے ہیں۔ اولاد کی محبت بڑی خوفناک چیز ہے۔مولانا فضل الرحمٰن تقریر کےلئے ڈائس پرآئے تو پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے بہت سے لوگ پنڈال سے اٹھ کر چلے گئے۔ بے شک مولانا ’’مشرف بہ میوزک ‘‘ ہو چکے ہیں مگر عوام ابھی تک انہیں اپوزیشن کی پارٹیوں کا سربراہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ محترمہ مریم نواز نے فرمایا کہ ’’عمران خان کی بدعنوانی کی داستانیں جب عوام کے سامنے آئیں گی تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔‘‘اس جملے کے کئی مفہوم ہیں ایک یہ کہ صرف ہم نہیں عمران خان بھی بدعنوان ہیں۔ دوسرا عمران خان کی بدعنوان ہم سے زیادہ نکلے گی۔ تیسرا’’ جب عوام کے سامنے آئیں گی تو وہ کانوں کو ہاتھ لگائیں ‘‘یعنی ابھی ہمارے پاس عمران خان کی کسی مالی بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں کہ ہم لوگ عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔ عمران خان مالی بدعنوان نہیں۔اپوزیشن اس جھوٹ کو جتنی مرتبہ بھی بولے، کوئی فرق نہیں پڑے


گا۔بلکہ عمران خان کےلئے عوامی ہمدرد ی بڑھے گی ۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دسمبر میں نواز شریف پاکستان آنے کا پروگرام بنا چکے ہیں مگر وہ بار بار پوچھتے ہیں کہ کہیں پھر معاملہ پچھلی مرتبہ جیسا تو نہیں ہو گا کہ نون لیگ کا جلوس کہیں راستہ میں کھو گیا تھا اور مریم اور نواز شریف قید خانے پہنچا دئیے گئے تھے۔ اپوزیشن کے پاس نئے انتخابات کیلئے صرف ایک راستہ ہے کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائے تاکہ حکومت نئے انتخابات کرانے پر مجبور ہو جائے مگر خبر یہی ہے کہ صرف پیپلز پارٹی نے ہی انکار نہیں کیا، خود نون لیگ کے بےشمار ایم این ایز نے اس آئیڈیا کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔ یعنی مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ ان کے خیال کے مطابق اس وقت حکومت مہنگائی کے دیو کو قابو کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ توقع ہے کہ دو تین ماہ میں کامیاب ہو جائے گی۔ سو نئے الیکشن ہمارے لئے نقصان کا باعث بنیں گے۔ ہاؤس کے اندر تبدیلی کا آپشن بھی موجود ہے مگر سینٹ میں سنجرانی کے انتخاب میں اپوزیشن کو شرمندگی ہوئی اس کے بعد وہ بہت محتاط ہو چکی ہے اور دوبارہ شرمندہ نہیں ہونا چاہتی۔مولانا فضل الرحمن نے دعوی کیا کہ ’’حکومت آنے والا دسمبر نہیں دیکھے گی‘‘ مولانا جب اپنا ڈنڈہ بردار جلوس لے کر اسلام آباد تھے تو اس وقت بھی واپس جاتے ہوئے ایسا ہی اعلان کیا تھا کہ دو ماہ میں عمران خان کی حکومت ختم ہوجائے گی۔ پتہ نہیں ایسے خواب مولانا دن کی روشنی میں کیسے دیکھ لیتے ہیں۔ کچھ احباب کا خیال ہے کہ بڑے عرصہ کے بعد اقتدار سے باہر ہونے کے سبب مولانا کی شخصیت میں کئی نفیساتی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔اب ان کی حالت بالکل ماہی ِبے آب کی طرح ہے۔ سو حکومت کو ان کی کسی بات کا برا نہیں منانا چاہئے۔








Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں