کراچی(streamhours)کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں بورڈ آفس کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں اورنگی ٹاؤن کے سابق ناظم شیخ فیروز کی بیٹی جاں بحق ہوگئیں۔
پولیس کے مطابق اورنگی ٹاؤن کے سابق ناظم کی بیٹی بورڈ آفس سے اپنے تعلیمی دستاویزات کے حصول کے لیے آئی تھیں۔
اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) راشد علی کا کہنا تھا کہ مسلح موٹر سائیکل سواروں نے 21 سالہ فاطمہ فیروز کی گاڑی پر اس وقت گولیاں برسائیں جب وہ ان کی بہن اور دیگر دو لڑکیوں کے سامنے موجود تھیں۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ فاطمہ فیروز نارتھ ناظم آباد میں واقع انٹرمیڈیٹ بورڈ سے تعلیمی دستاویزات حاصل کرنے لیے آئی تھیں اور کار میں اپنی بہن اور دیگر دو لڑکیوں کے ہمراہ تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی گاڑی بورڈ آفس سے واپس جارہی تھی تو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی کا تعاقب کیا اور عبداللہ کالج کے قریب فائرنگ کی۔
ملزمان گاڑی پر فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے جبکہ فاطمہ فیروز کو شدید زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے دم توڑنے کی تصدیق کی گئی۔
ایس ایچ او راشد علی کا کہنا تھا کہ لڑکی کی گردن پر ایک گولی لگی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق لڑکی اورنگی ٹاؤن کے سابق ناظم شیخ فیروز بنگالی کی بیٹی اور شادی شدہ تھیں لیکن گزشتہ تین سے 4 برس سے شوہر کے ساتھ ‘اختلافات’ تھے۔
ایس ایچ او نے واقعے کے پیچھے ڈکیتی کے امکان کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس نوجوان لڑکی کے قتل کے پیچھے چھپے محرکات جاننے کے لیے تفتیش کررہی ہے۔
خیال رہے کہ نارتھ ناظم آباد میں فروری 2019 میں ڈکیتوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران زد میں آکر میڈیکل طالبہ جاں حق ہوئی تھی۔
کراچی میں رواں ماہ کے اوائل میں پولیس نے نوجواںوں پر ڈکیتی کے شبہے میں فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں نوجوان جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے تھے، بعد ازاں 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 15 ستمبر کو بھی پولیس کی جانب سے غلط فہمی کی بنیاد پر فائرنگ کرکے بے گناہ شہری کو قتل کردیا گیا تھا۔
کراچی کے علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر پولیس نے غلط فہمی میں ڈاکو سمجھ کر موٹرسائیکل سواروں پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوگیا تھا۔اعلیٰ حکام نے مذکورہ واقعے کا نوٹس لیا تھا جس کے بعد ملوث 3 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
رواں برس اپریل میں کراچی کی پیر الہٰی بخش (پی آئی بی) کالونی میں پولیس نے راشن کی تقسیم کے دوران ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق ہوئی تھی اور اس الزام میں 4 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
ایس ایچ او شاکر حسین کا کہنا تھا کہ خاتون کو سر میں گولی لگی تھی جس پر انہیں نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج چل بسیں۔










Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں