لاہور (streamhours) جب مستقبل کا مورخ پاکستان کی تاریخ لکھے گا تو وہ ایک ایسے حکمران کا ذکر انگشت حیرت بہ دہن کرے گا جو بیک وقت خوش قسمت بھی تھا اور بدنصیب بھی۔ ہندوپاک کی 72 سالہ تاریخ میں دو حکمران ایسے گزرے ہیں جو تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے


عہدے پر متمکن ہوئے۔ نامور کالم نگار اور سابق بیوروکریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہندوستان کا جواہر لعل نہرو اور پاکستان میں میاں نوازشریف۔ یہاں پہنچ کر موازنہ ختم ہو جاتا ہے۔ نہرو ایک امیر خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ جب پرلوک سدھارا تو اس کے دونوں محاوراتی ہاتھ خالی تھے۔ اس نے اپنا سب کچھ ملک و قوم پر نچھاور کر دیا۔ مسلم دشمنی کے باوصف وہ اپنی قوم میں مقبول تھا۔ وہ ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ وزیراعظم رہا۔ اپنے لئے‘ اپنے خاندان کے لئے‘ دوست احباب کی خاطر اس نے کوئی غیر قانونی کام نہ کیا نہ منصب کو سنہری موقع جانا۔اس کے برعکس میاں صاحب کا خاندان بتدریج اجیر سے آجر بنا۔ سیاست میں ان کی آمد البتہ خلاف توقع اور حادثاتی تھی۔ جب وہ گوالمنڈی سے وارڈ الیکشن ہارے تو ان کے سان و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن اچانک ہما ان کے کندھوں پر آبیٹھے گا۔ اقتدار کی دیوی دامن نیاز کی طرح ان کے سامنے بچھ جائے گی۔نہ جانے کیا سوچ کر جنرل جیلانی نے ان کو آگے لانے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ ان سے بڑے اور بہتر سوچ والے کارخانہ دار ملک میں موجود تھے۔ پہلے ان کو وزیرخزانہ بنایا پھر وزارت علیا دلوانے کیلئے ممبران اسمبلی سے رائے لینے کا ڈرامہ رچایا۔ اس موقع پر ایک دلچسپ لطیفہ سرزد ہوا۔ جنرل صاحب ہر ممبر اسمبلی کو باری باری اندر بلاتے اور رائے لیتے۔ ان کا تکیہ کلام ’’مزاج شریف‘‘ تھا۔ جو ممبر باہر نکلا وہ اپنے ’’کولیگز‘‘ سے کہتا گورنر نوازشریف‘ نوازشریف کی گردان کرتے نہیں تھکتا۔ میاں صاحب وزیراعلیٰ بنے تو ضیاء الحق نے بھی اپنے برادر نسبتی ڈاکٹر بشارت اور اسلم خان یوگنڈا والے کے مشورے پر ان کے سر پر دست شفقت رکھ دیا۔ جب جنرل ضیاء نے وزیراعظم محمد خان جونیجو کو یک بینی و دوگوش نکال باہر کیا تو میاں صاحب نے بھی روایتی مشرقی محبوب کی طرح اس سے نگاہیں پھیر لیں۔ اس طرح وزارت عظمیٰ کی راہ ہموار ہوتی گئی۔









Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں