لاہور(streamhours) ابھی کچھ دیر قبل سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں یہ خبریں گردش کرنا شروع ہوئیں کہ سی سی پی او لاہور کو تبدیل کر دیا گیا اور انکی جگہ طارق عباس قریشی نئے سی سی پی او لاہور تعینات کر دیئے گئے ہیں جسکا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ تاہم اب ان خبروں کی ھقیقت سامنے


آگئی ہے۔ تفصیلات کے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تبدیلی کی خبریں بے بنیاد ہیں وہ تین روز کی چھٹی پر ہیں اور انکی بیٹی کی شادی جاری ہے وہ واپس آ کر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ یہ خبریں ان صحافیوں کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہے جنکے معاملات سی سی پی او لاہور کے ساتھ ٹھیک نہیں ہو سکے تھے ۔ اس سے قبل حساس اداروں نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا سخت رویہ وزیراعظم ہاؤس میں رپورٹ کر دیا۔92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا سخت رویہ وزیراعظم ہاؤس تک رپورٹ ہو گیا۔حساس اداروں نے رپورٹ وفاقی حکومت کو بھجوا دی ۔زرائع کے مطابق جب سے سی سی پی او عمر شیخ تعینات ہوئے،تب سے حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سی سی پی او کا رویہ حکومت کے لیے تنقید کا سبب بنتا ہے۔سی سی پی او کا ماتحت افسران کو ہراساں، غیر مناسب گفتگو کرنا معمول بن چکا ہے۔ان کے رویے کے باعث فورس میں انشتار پیدا ہو رہا ہے۔عمر شیخ آئی جی آفس اور ایوان وزیراعلیٰ کو بھی بائی پاس کرتے ہیں۔حکومت کی تھانہ کلچر میں تبدیلی کی پالیسی بھی متاثر ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور عمرشیخ جب سے عہدے پر آئے ہیں پہلے دن سے ہی متنازع بنے ہوئے ہیں۔ان کے ایکشن جہاں کچھ لوگوں کو سخت نا پسند ہیں وہیں ان کے اقدامات کی توقیر کرنے والے بھی ڈھیروں لوگ موجود ہیں۔عوام میں شاید ان کے ایسے ایکٹس کی پذیرائی ہوتی ہو مگر ان کے اپنے محکمے کے لوگ زیادہ پسند نہیں کر رہے یہی وجہ ہے کہ محکمے کے افسران اب سی سی پی او لاہور سے فاصلہ رکھنے لگے ہیں۔سی سی پی او لاہور کے رویے پر بہت سارے لوگوں کو اعتراض ہے جس کی مثال موٹروے کیس میں خاتون کے خلاف بیان دینے پر ردعمل کی صورت میں سامنے آئی تھی۔اس کے بعد ایک انتہائی قابل اور پڑھے لکھے پویس افسر کر گدھے کا بچہ بھی کہہ دیا تھا جس پر نوجوان نے دل برداشتہ ہو کر محکمے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔جس کے بعد ان کی ایک خاتون کے ساتھ مبینہ بدکلامی کی گفتگو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد سی سی پی او لاہور کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔









Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں