نئی دہلی (streamhours )یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نام نہاد بھارتی جمہوری حکومت کس طرح مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے کے درپے ہے جو ہر لمحہ اسی سوچ کے تحت چل رہی ہے کہ کس طرح بھارت میں مسلمانوں کو جینا دوبھر کر دیا جائے کہ وہ مجبور ہو کر کہیں اور چل دیں۔اب بھارتی ریاست آسام میں حکومت کی سرپرستی میں چلائے جانے والے

دینی مدارس جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی تھی انہیں ختم کرنے کا بل منظور کر لیا گیا ہے جسے سراسر بی جے پی کی حکومت کی ایما پر منظور کیا گیا ہے۔ اس سفاک اور ظالم قانون کے پاس ہونے سے بھارتی ریاست آسام میں قائم تمام مدارس اپریل تک سیکولر اسکولوں میں تبدیل کردیئے جائیں گے۔اس بل کو منظور کرنے کے لیے حکمران جماعت بی جے پی نے منظوری دی جبکہ اس ظالم بل کی منظوری کے خلاف دیگر اپوزیشن جماعتوں کانگریس سمیت آل انڈیا ڈیموکریٹک موومنٹ نے نہ صرف بل کی مخالفت کی بلکہ اسمبلی سے واک آؤٹ بھی کیا۔ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں اصولی موقف اپنایا کہ اس

اقدام سے ملک میں مسلم مخالف جذبات کو مزید تقویت ملے گی۔کیونکہ بل پاس ہونے کے بعد بھارتی ریاست آسام میں مدارس سیکولر اسکولز میں تبدیل ہوجائیں گے جہاں مسلمان طالب علم قرآن کی تعلیمات حاصل نہیں کرسکیں گے۔اس حوالے سے آسام کے ریاستی وزیر ہمانتا بشوا شرما نے کہا کہ “بل کے پاس ہونے پر خوشی ہے”


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں