بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک ) تیسری عالمی جنگ ہونی تو ضرور ہے مگر شروع کہاں سے ہو گی،مرکز کون سی جگہ ہو گی اور اس کے کس قدر بھیانک نتائج برآمد ہوں گے اس سے ہر کوئی نابلد ہے۔ تاہم اس وقت شمالی کوریااور ایران کی سمندری ٹینک پر چپقلش،ایران پر امریکہ کی بے جا پابندیاں اور پھر چین کی تائیوان اور انڈیا کے ساتھ محاذ آرائی یہ سب

خاموشی سے ختم ہونے والا نہیں ہے۔ تائیوان چین سے جان چھڑانے کے لیے امریکہ کو آوازیں دے رہا ہے جب کہ لداخ کے مقام پر انڈیا بھی چین کے چنگل سے بچنے کی جستجو میں لگا ہوا ہے۔یہ خیال کیاجا سکتا ہے کہ2021میں چین کسی محاذ آرائی کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ اس نے اپنے فرنٹ کئی جگہوں سے کھولے ہوئے ہیں کیونکہ امریکہ نے بھی اسے معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔لہٰذا ممکنہ جنگ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے شی جن پنگ نے اپنی پیپلز لبریشن آرمی کو حکم دیا ہے کہ کسی بھی نوعیت کی جنگ لڑنے کے لیے تیارہو جائیں۔صدر چین کا کہنا تھاکہ ہمیں کسی بھی وقت ناگہانی لڑائی لڑنے کے لیے میدان میں کودنا پڑسکتا ہے لہٰذا جنگ کی مشقیں شروع کی جائیں اور سپاہی کسی بھی وقت مرنے مارنے کے لیے تیار ہوں۔ان کا کہنا تھاکہ تائیوان اور انڈیا کے ساتھ جس قسم کاہمارا فرنٹ کھلاہوا ہے تو ہمیں 2021میں جنگ لڑنا پڑ سکتی ہے۔ویسے بھی کمیونسٹ پارٹی کے سوسال مکمل ہونے جا رہے ہیں تو اس سے بھی نظر آتا ہے کہ وہ اپنے ملک کو کوئی اچھا تحفہ دیں گے۔شی جن پنگ نے اپنی آرمی کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک سیکنڈ میں لڑنے کے لیے آپ کو تیار ہونا چاہیے۔میری فوج کے کمانڈرز اور سپاہی سبھی تیار ہوں۔کسی قسم کی سختی یا موت کے خوف سے خود کو آزاد کر لیں۔آرمی کو مضبوط کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کیاجائے اور سپاہیوں کی استعدادکار کو بھی بڑھایا جائے۔

آپریشن میں کامیابی حاصل کرنے لیے آن لائن پریکٹس کرواتے ہوئے کمپیوٹر کے استعمال کو شامل کیا جائے تاکہ آرمی جنگ کے میدان میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے دشمن پر اپنی دھاک بٹھا ئی جاسکے۔یاد رہے کہ ہمالیہ کے بارڈڑ پر گزشتہ برس جون کے مہینے میں ایک خونی جنگ ہوئی تھی جس میں 20انڈین سپاہی موت کے گھاٹ اتر گئے تھے اور لداخ کےمکمل حصہ پر چین نے قبضہ کر لیا تھا۔لہٰذا اس بارڈر پر انڈیااور چین کے ساتھ ابھی بھی چپقلش جاری ہے۔ جبکہ کچھ دن قبل تائیوان کے ساتھ بھی چین کی مدبھیڑ شروع ہوئی ہے تو جب سمندری حدود میں امریکی بیڑہ تائیوان کی گزارش پر پہنچا تو وہاں پر چین نے بھی اپنے لڑکا طیارے اڑانا شروع کر دیے۔اب دیکھتے ہیں چین دنوں محاذ پر کس قدر کامیابی سے لڑتا ہے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں