لاہور (streamhours) چینی کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں سن رہا ہوں پہلے ہی لکھا تھا کہ چینی کی قیمتوں میں کمی مصنوعی ہے کرشنگ سیزن کے آغاز میں شوگر ملوں میں ذخیرہ کی ہوئی چینی نکالنے کا عمل شروع ہوتا ہے یہ عمل ہر سال دہرایا جاتا ہے اس لیے نومبر کے

آخر یا دسمبر میں چینی کی قیمتوں میں کمی حکومتی اقدامات کے بجائے طلب اور رسد کے فارمولے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ حکومت کو یہ کریڈٹ دیا جا سکتا تھا کہ انہوں نے چینی کی فراہمی کو یقینی بنایا لیکن اس سے پہلے پیدا ہونے والا بحران بھی حکومتی کوتاہیوں کے سبب تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ہمیں تیار رہنا چاہیے کہ چینی ماضی والی قیمت پر جا سکتی ہے۔ درحقیقت حکومت کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے نہ ہی حکومتی سطح پر اس مارکیٹ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے بس ایک ہی انداز میں معاملات کو چلانے کے نتیجے میں قوم کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ حقائق وزیراعظم عمران خان تک نہیں پہنچائے جاتے انہیں ناصرف اندھیرے میں رکھا جاتا ہے بلکہ غلط معلومات کے ذریعے نجانے کون کون فائدہ اٹھا جاتا ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال رواں سال بھی اگر دو ہزار بیس کی غلطیوں کو دہرایا گیا تو ہمیں پھر ایک بحران کے لیے تیار رہنا ہو گا۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں