کراچی (streamhours) نجی ٹی وی چینل پر سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں میزبان سلیم صافی نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان احتجاجستان بن گیا ہے اس وقت کوئی طبقہ ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے نشانہ نہ بنا ہو

تازہ ترین جو سانحہ ہوا اس میں ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جیو کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما بلوچستان عوامی پارٹی سینیٹر انور الحق کاکڑ نے کہا کہ ہم جس ریجن میں ہیں جہاں ایران ہے چائنا ہے ان کے بھی جو ریاستی پالیسز ہیں ہماری پالیسز وہاں اثرات پیدا کر رہی ہیں اور ان کی پالیسز غالباً ہمارے ہاں اثرات پیدا کرتی ہیں ڈومیسٹک سطح پر گورننس کے ایشو پر بات ہوسکتی ہے ، اگر کوئی انتشار پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو جب تک مجھے بیرونی سپورٹ نہیں ملے گی میں انتشار پھیلا نہیں سکوں گا۔ سینیٹر انوار نے کہا کہ لوگوں میں خواہش ہے کہ بدامنی پیدا کریں یہ خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے کہ وہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائیں جب یہاں تعلیم نہیں ہے روزگار نہیں ہے اچھی حکمرانی وسائل نہیں ہوں گے مالی بدعنوانی ہوگی ریاست اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرے گی ریاست نے جتھے بنائے ہیں گروپس بنائے ہیں لوگوں کو ہتھیار دیے جاتے ہیں جب اتنی خامیاں ہیں اور جب کچھ ہوتا ہے تو کہتے ہیں بیرونی معاملہ ہے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ جتنے بھی لوگوں سے ابھی آپ کی بات ہوئی ان کا زیادہ زور اپنے حقوق پر تھااور یہ بھی اہم ہے کہ اپنی ذمہ داری کو بھی سمجھا جائے۔ جس طرح ریاست کے کچھ حقوق ہوتے ہیں کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ جہاں تک مچھ کے واقعے کی بات ہے وزیراعظم کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ میتوں کی تدفین جلد سے جلد ہوجائے اس سے مراد یہ نہیں تھی کہ ورثاء سے پرسہ نہیں کریں گے۔ جہاں تک پریشرائز کرنے والے لفظ کی بات ہے یقینا الفاظ کا چناؤ بہتر کیا جاسکتا تھا بعض اوقات الفاظ کے چناؤ ایسا ہوجاتا ہے جو آپ کے ذہن کی بات کی عکاسی نہیں کر رہا ہوتا ہے ۔جام کمال نجی مصروفیت کی وجہ سے دبئی میں تھے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں