سینٹ میں اپوزیشن اراکین نے کہا ہے کہ ایوان صدر کو آرڈیننس کی فیکٹری بنا دی ہے ،آئین کے تحت آرڈیننس حکومت کا اختیار ہے معاملات پارلیمنٹ میں آنے چاہئیں ، پارلیمنٹ کو اہمیت دی جائے ، ،سینیٹ کے شو آف ہینڈ کے انتخاب سے چھو ٹی جماعتوں بددلی پھیلے گی ،صوبوں کی

رائے کو نظرانداز نہیں کرنا چاھیے ،وزیراعظم کو سینیٹ میں آنا چاہیے ہم اْن کی تقریر سنیں گے جبکہ وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاہے کہ قانون سازی میں رکاوٹ کی وجہ سے آرڈیننس لائے ،بلوچستان میں بد امنی کے پیچھے بھارت ہے ،بھارت بلوچستان کو الگ کرنا چاہا رہا ہے،بھارت کے راستے میں غیور بلوچ رکاوٹ ہیں۔پیر کو سینیٹ میں آرڈیننس کے ذریعے حکومت چلانے کی کوششوں سندھ بلوچستان کے جزائر ،مہنگائی اور

معاشی ابتری کے حوالے سے تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر کبیر شاہی نے کہاکہ ایوان صدر کو آرڈیننس کی فیکٹری بنا دی ہے حکومت نے مختلف اوقات میں چالیس آرڈیننس جاری کیے گئے ہیں ،ملکی مفاد میں ایک بھی آرڈیننس جاری نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر وفاق کی جانب سے صوبوں کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا گیا۔سینیٹ میں آرڈیننس کے ذریعے حکومت چلانے کی کوششوں سندھ بلوچستان کے جزائر ،مہنگائی اور معاشی ابتری کے حوالے سے تحریک پر بحث مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر عبدلقیوم نے کہا کہ آئین کے تحت آرڈیننس حکومت کا اختیار ہے معاملات پارلیمنٹ میں آنے چاہے ،آرڈیننس سے اجتناب کیا جائے پارلیمنٹ کو اہمیت دی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ملک کے مسائل پر بات کرتی ہے ،سینیٹ کا اجلاس ریکوزیشن پر ہورہا

ہے کمیٹیوں کے اجلاس نہیں ہورہے ،وزیراعظم کو سینیٹ میں آنا چاھیے ہم اْن کی تقریر سنیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں سب سے اہم قومی یکجہتی ہوتی ہے ،ملک کے معاشی حالات اچھے نہیں ہیں سی پیک کو آگے چلانا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں دہشت گردی کی جڑیں ملک کے باہر ہیں سفارتی ذرائع سے اسے ختم کرنا ہے ،امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی ضرورت ہے خارجہ پالیسی کو بہتر کرنا ہے،۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ قانون سازی میں رکاوٹ کی وجہ سے آرڈیننس لائے ،جو قانون آسانی سے پاس ہو سکتے ہیں ان پر بھی تعاون نہیں کیا گیا ،پی پی نے اٹھارہویں کے وقت آرٹیکل 89ختم کیوں نہیں کیا۔ فروغ نسیم نے کہاکہ آرڈیننس آرٹیکل

89کے تحت جاری کئے ،بلوچستان کے حقوق غضب نہیں کر رہے ،بلوچستان میں بد امنی کے پیچھے بھارت ہے ،بھارت بلوچستان کو الگ کرنا چاہا رہا ہے،بھارت کے راستے میں غیور بلوچ رکاوٹ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پی پی اور ن لیگ کتنے آرڈیننس لے کر آتی رہی ہیں،فیٹف جیسے قوانین کو بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کروایا گیا،ایوان میں سب کچھ قانون اور آئین کے مطابق چلارہے ہیں،بار بار یہ کہنا کہ آرڈیننس نہیں لاسکتے یہ اٹھارہیویں ترمیم کی نفی ہے،آئین میں آرڈیننس کی اجازت ہے زیادہ تر

آرڈیننس اب قانون میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آبی ذخائر بھٹو حکومت نے وفاق کے حوالے کیے تھے اب ان پر تنقید کیوں جارہی ہے،آبی ذخائر کے حوالے سے آرڈیننس اب زاہد المعیاد ہوچکے ہیں۔اپوزیشن پارلیمنٹ کا ضمیر ہے،مثبت تنقیدکیلئے حکومت حاضر ہے۔سینیٹر سسی پلیجو نے کہاکہ حکومت آرڈیننس کی فیکٹری ہے اور یہ آرڈئننس زائد المیعاد ہو چکا ہے ،وزیر قانون لا کی غلط تشریح کر رہے ہیں آئل ذخائر صوبوں کی ملکیت ہے ،آئین میں ہر چیز کی وضاحت کی گئی ہے سندھ نے آدڈیننس کو مسترد کر دیا ہے ،وزیر قانون کی تقریر اٹھارہویں آئین ترمیم کی روح کے خلاف ہے۔سینیٹر میاں رضاربانی نے کہاکہ جزیروں کے مسئلوں صوبائی خودمختاری دوبارہ ون یونٹ میں لانے کی کوششوں کو اعلی عدالتوں نے سائٹا سائیڈ کیا ،پاکستان اس نہج پر ساری بحث بے معنی لگتی ہے ،لگتا ریاست نے اس بات کا فیصلہ جو فالٹ لائن ہیں اْن کو اجاگر کیا جارہا ہے ،ملک کے اندر بڑے عرصہ یہ روایت چلتی ہے جو بھی اپنے حقوق اور صوبائی خود مختاری میڈیا کی ازادی کے اواز اٹھاتا ہے اْس کو غدار وطن قرار دیا جاتا ہے ،ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ٹریڈ یونینز کو ختم کیا جارہا ہے ،صوبائی خود مختاری کا مسئلہ حل نہیں ہوا ایک حد تک

آگے بڑھا ،ریاست نے پولرائزیشن کو دوبارہ اجاگر کیا جارہا ہے ،اس وقت سینیٹ کے انتخاب کو چھیڑا ،شفاف الیکشن پر کسی کو اعتراض نہیں ،سینیٹ کے شو آف ہینڈ کے انتخاب سے چھو ٹی جماعتوں بددلی پھیلے گی اور ایک فالٹ لائن چھیڑی گئی ہے ،جس وقت تک آئین کی تشریح مختلف ہو گی جب تک تمام ادارے اس بات پر رضند نہیں ہوتے ادارے آئین کے بابند نہیں ہوتے معاملات خراب ہونگے ،آئین کے ساتھ کھلواڑ وفاق کے ساتھ کھلواڑ کرنا ہے ،اداروں کے درمیان ڈئیلاگ کا پارلیمنٹ کو اقدام کرنا چاہیے،اداوں کے درمیان مذاکرات وفاق کی مضبوطی کی علامت ہے ،اب چالاکیوں اور پھرتیوں سے کام نہیں چلے گے۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہاکہ سینیٹ اکائیوں کا مجموعہ ہے جزائر صوبوں کی ملکیت ہے ،جزائر اگر صوبوں سے وفاق لے لے گا تو صوبوں احساس محرومی پھیلے گی ،صوبوں کی رائے کو نظرانداز نہیں کرنا چاھیے ،اسی سے ہماری یکجہتی ہو گی۔سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ وفاقی حکومت کو تمام صوبے عزیز ہیں جب صوبے مضبوط ہونگے تو وفاق مضبوط ہوگا ،جزائر سے متعلق آرڈیننس زائد المیعاد ہو چکا ہے۔ عثمان کاکڑ نے کہاکہ مو جودہ حکومت نے ملک برائے فروخت پر لگایا ہوا ہے ،حکومت کا ملک بیچنے کے ایجنڈے کو

پورا نہیں ہونے دینگے ،صوبوں کی وفاق کے درمیان بد اعتمادی ہے اس کو ختم کرنا چاہیے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ صوبوں کے وسائل پر صوبوں کو اختیار ہے وفاقی حکومت بادشاہوں کی طرز پر کام کررہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت جزائروں کے معاملے مشاورت کرتی صوبوں کے ساتھ احساس محرومی پیدا کرنے کی کوشش ہے ،آرڈیننس پر قوم متفق نہیں ہے کام کے بغیر حکومت تعریف کروانا چاھتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اقتصادی حالات کو بہتر کرے حکومت کی پالیسیوں کے وجہ ملک آئی ایم ایف کا غلام بن چکا ہے ،حکومت اپنی ترجیحات کا تعین کرے نو سو دنوں میں حکومت مہنگائی بے روزگاری گاری کے خلاف نہیں لڑی صرف اپوزیشن کے ساتھ لڑی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سٹیل ملز کے ملازمین کو نکالا گیا پی آئی اے ریلوے اور واپڈا کی حالت بہتر نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ملک کی سیاست اور اندھیروں میں ڈوب گیا ہے ،صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا ،فاٹا کے ساتھ کیے گئے وعدے کہاں گئے ،وزیراعظم عمران خان ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا اْس طرف ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ،کوئٹہ میں ماوں بہنوں نے ٹھٹھرتی سردی میں وقت گزارا اْن کا مطالبہ کیا صرف وزیراعظم کو بلا رہے تھے۔یبرسٹر محمد سیف نے کہاکہ ایوان میں دلائل سے بات کریں تنقید برائے تضیحک نہ ہو ذاتی حملے نہیں ہونے چاھیے ،سینیٹ میں تعمیری بات کریں جزائر پر بات ہو رہی ہے اس پر فوکس کیا جائے ،وفاق کو جزائر کی حوالگی کے حوالے آئین میں سب کچھ موجود ہو ،مسائل کے حوالے سے بات کی جائے ۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس (اج) منگل کو تین بجے سہ پہر تک ملتوی کر دیا گیا ۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں