8 سالہ بچے نے ماں کو آشنا کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا،سفاک ماں نے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے ہی بیٹے کی جان لے لی۔ محبت سے شروع ہو کر ق ت ل پر ختم ہونے والے واقعے کی دل دہلا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔خالد نامی شخص اور بلقیس نامی خاتون کے تین ماہ قبل تعلقات قائم ہوئے تھے، دونوں چھپ چھپ کر ملتے تھے

اور ناجائز تعلقات قائم کیے ہوئے تھے۔ ایک دن بلقیس کے 8 سالہ بیٹے نے والدہ کو مذکورہ شخص کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا، جس پر بیٹے نے کہا کہ وہ والدہ کے شرمناک کرتوتوں سے متعلق باپ کو بتائے گا، اسی بنا پر سگی ماں نے اُسی آشنا کے ساتھ مل

کر اپنے ہی بیٹے کو موت کے گ ھاٹ اتار دیا۔ خالد نامی ملزم نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ واہگہ بارڈر کا رہائشی ہے،میں نے دو شادیاں کی ہیں، پہلی بیوی کو چھوڑ دیا،جس خاتون سے دوسری شادی کی وہ چھ بچوں کی ماں تھی۔ پھر بلقیس کے ساتھ تعلقات بڑھ گئے جو کہ میری ہمسائی تھی، بلقیس کا میرے گھر بھی آنا جانا تھا۔ہماری دوستی جلد ہی ناج ائز تعلقات میں

بدل گئی۔ہم دونوں کے تعلقات سے متعلق کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا لیکن ایک دن بلقیس کے بیٹے نے سب دیکھ لیا۔بلقیس نے بیٹے کو روکنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ والد کو سب کچھ بتانے پر بضد تھا۔جب بچہ بھاگنے لگا تو میں نے اس کو پتھرم ارا اور اس کو دبوچ لیا۔ میں نے دروازہ بند کرنے کے لیے بچے کو ایک طرف پھینکا ، پتھر لگنے سے وہ شدید زخ می ہو گیا،میں نے اور بلقیس نے بچے کو دیکھا تو وہ مر چکا تھا۔اس کے بعد بچے کی ل ا ش کو پانی میں پھینکنے چلا گیا۔میرے دل میں کہیں نہ کہیں یہ ڈر تھا کہ بچے کی ل اش کو جانور نہ کھا لیں۔بچے کو میں نے پانی سے اٹھا کر ایسی جگہ پھینکا جہاں سے بچے کا چاچو گزرتا تھا،میں چاہتا تھا کہ

بچے کی ل اش جلد از جلد گھر والوں کو مل جائے۔ جب کے اسی کیس کے حوالے سے ڈی ایس پی دانش کا کہنا ہے کہ ملزم سے متعلق مزید کئی شکایات ملی ہیں اور اس کے کئی خواتین کے ساتھ تعلقات بھی تھے۔ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ بلقیس بھی

اس کے ساتھ شریک ج رم ہے،ہم اس حوالے سے بھی تفتیش کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بچے کے ساتھ ز کا شبہ ہے،ملزم کا ڈی این اے کروا رہے ہیں،ابھی اس حوالے سے تفتیش کر رہے ہیں کہ ملزم کا تعلق بچے کے ساتھ تھا یا پھر خاتون کے ساتھ۔ کیونکہ یہ بھی امکان ہے کہ ملزم ضمانت کروانے کے لیے بچے کی والدہ پر الزام لگا رہا ہو۔میرا ذہن قبول نہیں کرتا کہ والدہ بھی اس ج رم میں شامل تھی۔مجھے شبہ ہے کہ ملزم نے بچے کے ساتھ ز کی ہے تاہم حقیقت ڈی این اے رپورٹ کے بعد سامنے آ ئے گی۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں