اسلام آباد (streamhours ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہلی کیس میں فیصل واوڈا کو8 فروری تک جواب جمع کروانے مہلت دے دی، بتایا جائے فیصل واوڈا امریکی شہری تھے تو شہریت کب ترک کی؟ جواب جمع کروانے سے کیوں شرما رہے ہیں؟ فیصل واوڈا کا کنڈکٹ درست نہیں، جھوٹے بیان حلفی کے اپنے نتائج ہیں۔


تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں بنچ نے ناہلی کیس کی سماعت کی، تاہم عدالت میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے وکیل نے آج بھی جواب داخل نہیں کروایا، جس پر عدالت نے وکیل صفائی سے کہا کہ بتایا جائے فیصل واوڈا امریکی شہری تھے تو شہریت کب ترک کی؟ کہتے ہیں عدالتیں کام نہیں کرتیں، مئورخ دیکھے تو لکھے کہ عدالتوں میں کیا ہوتا ہے۔


نیوز ایجنسی کے مطابق عدالت میں وکیل صفائی نے کہا کہ فیصل واوڈا نے درخواست خارج کرنے کیلئے متفرق درخواست دائر کی ہے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بنچ کا خواجہ آصف کیس میں فیصلہ موجود ہے۔ جہانگیر جدون نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی عدالت میں پیش کیے۔ وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ کیس میں سولہویں پیشی ہے۔


وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ عدالت نے فیصل واوڈا سے ایک سال قبل جواب طلب کیا تھا جو نہیں دیا گیا۔ جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ ہم فیصل واوڈا کو جولائی 2023 تک کی تاریخ دے دیتے ہیں، ہم نے کہا تھا کہ فیصل واوڈا عدالت میں جواب جمع کرائیں۔ جو بھی سوالات آپ اٹھا رہے ہیں ان میں کوئی نئی چیز نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں، کیا فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرایا ہے۔

وکیل نے کہاکہ الیکشن کمیشن میں دلائل جاری تھے کورونا کی وجہ سے کیس نہیں لگ رہا۔ وکیل فیصل واوڈا نے کہاکہ میری کیس خارج کرنے کی درخواست پر درخواست گزار جواب دینگے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی تو عدالت نے دوسرے فریق سے جواب مانگا ہی نہیں، پہلے مجھے جواب دیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ سول کورٹ نہیں ہے جہاں آپ درخواست دیں اور ہم دوسرے فریق سے جواب مانگ لیں۔


انہوں نے کہا کہ اس متفرق درخواست پر پہلے عدالت کو مطمئن کریں پھر دیکھیں گے، آپ کے موکل کا رویہ درست نہیں ہے، آٹھ سے دس سماعتیں ہو چکی ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں جواب کس طرح لوں، یہ نوٹس کی کاپی کابینہ کو بھیج دیتا ہوں وہیں سے جواب آ سکتا ہے۔جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ کیا فیصل واوڈا دوہری شہریت رکھتے تھے۔


جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ انہوں نے امریکی شہریت کب چھوڑی، آپ نے ہدایات لی ہونگی عدالت کو بتائیں۔ وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ مجھے کچھ وقت دیا جائے میں اس عدالت کو متفرق درخواست پر مطمئن کرونگا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ پہلے بھی آپ نے ہی وقت مانگا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی ہی تین ممبران قومی اسمبلی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ اسی عدالت نے کیا۔


جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان کے وکلاء نے عدالت کو مطمئن کیا اور عدالت نے درخواستیں مسترد کر دیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ عدالتیں فیصلے نہیں کرتیں، کوئی نہیں پوچھتا کہ کیوں نہیں کرتیں۔ جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ اگر آج مورخ یہاں اس عدالت میں بیٹھا ہوتا تو لکھتا۔ وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ بیٹھے ہوئے ہیں۔


جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ پھر تو رنجیت سنگھ والا سسٹم ٹھیک تھا،اگر فیصل واوڈا جواب نہیں دینا چاہتے تو بتا دیں ہم الیکشن کمیشن کے ریکارڈ پر فیصلہ کر دیتے ہیں۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصل واوڈا کو جواب جمع کرانے کے لیے 8 فروری تک مہلت دیدی۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 8 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں