اسلام آباد (آن لائن) سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بجلی گیس بحران پر بات ہورہی ہے ندیم بابر صاحب کہاں ہیں؟ملک میں ایسا بلیک آؤٹ ہوا جو عموما جنگ کے دوران ہوتا ہے بلیک آوٹ تین دن تک جاری رہا۔کل رات نیپرا نے انکوائری کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے بلی کو دودھ کی انکوائری دے دی گئی

ہم اس انکوائری کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں۔سینیٹ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہو ئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آپ تباہی کی نئی تاریخ رقم کرتے جارہے ہیں گیس کا پریشر اتنا کم ہے کہ پانی تک گرم نہیں ہوتااب کس بنیاد پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ان کی نااہلی نے پاکستان میں تواتر سے بریک ڈائون ہو رہے ہیں سرکلر ڈیٹ کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے آپ سمجھتے ہیں گورننس کوئی کھیل ہے آپ نے پاکستان کو 220 ارب کا ٹیکہ لگا دیا ہے آپ نے پاکستان کی صنعتوں کو تباہ کردیا سینیٹرسلیم مانڈی والا نے کہا کہ میں نے چیئرمین نیب کو مبارکباد دی ہے اور بابر اعوان کو بھی بھیجا ہے نیب ہر کسی کے اکاؤنٹ میں گھس جاتی ہے کسی کا بھی اکاؤنٹ سیف نہیں ہے شیخ رشید اجلاس میں بیٹھے ہیں ان کو دیکھنا چاہیے ،کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں کوئی ڈیل کرنا چاہتا ہوں اور چیئرمین نیب کو کون بلیک میل کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ میں یہ لڑائی لڑتا رہوں گا، ان حالات میں سب چیزوں کو دیکھا جائے اس طرح سے ادارے ختم ہوتے رہیں گے اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے اس پر اتفاق رائے ہونا چاہیے مجھے میسج آ رہے ہیں کہ آپ پر مزید کیس بنائے جائیں گے اور ہم روز پریس کانفرنس کریں گے نیب کے متاثرین سینیٹ میں آئیں گے مجھ پر جتنے کیس کرنے ہیں کر لیں حکومت کو نیب کو بلانے میں کیا مسئلہ ہے ان کی فیملی کیسے باہر رہتی ہے ہم اب نیب کا احتساب کریں گے اور نیب اپنے اثاثوں کے بارے میں پارلیمنٹ میں آ کر بتانا پڑے گا لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے نیب نوٹس بھیج رہی ہے یہ ایشو پورے ملک کو تھریٹ کر رہا ہے اس پر بابر اعوان نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ سپریم ہے کیا وہ کسی کو بلا کر کسی سے پوچھ سکتی ہے کہ نہیں پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی کو بلا کر پوچھ سکتی ہے پارلیمان کا کام قانون سازی کرنا ہے

لیکن کوئی عدالت قانون نہیں بنا سکتی ہے کیا پی اے سی کسی کی موت کا فیصلہ کرے گی پہلے کسی نے نیب کے قوانین میں تبدیلی کی کوشش نہیں کی گئی گزشتہ دس سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے آرڈیننس جاری کیا گیا یہ آرڈینس کمیٹی میں گیا مر گیا لیکن کسی نے اس کو ہاتھ نہیں لگایا آج بھی ہم ریفارمز کرنے کیلئے تیار ہیں تو نو گو ایریا ہیں جہاں ہم نہیں جاسکتے ،کسی کو این آر او نہیں دیا جاسکتا اور احتساب کے اداروں کو تالا نہیں لگایا جا سکتا جہاں سے احتساب میں مسلہ پیدا ہواکہ مرضی کے لوگوں کو لگا کر احتساب کیا گیا انہوں نے کہا کہ کون لوگ کہتے ہیں کہ سیاستدان کا احتساب ہوتا ہے کون کہتا تھا کہ نیچے اترو گھر جاؤ، اگر کوئی ریفارمز کرنی ہے ڈائیلاگ کرنا ہے تو آئین کے مطابق ہاؤس چلے اور قانون کے مطابق ادارے چلیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب کو عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بابر اعوان اچھے وکیل ہیں پہلے پیپلز پارٹی کی ترجمانی کرتے تھے اب پی ٹی آئی کی ترجمانی کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ نیب کے ایک نوٹس پر کوئی بندہ اپنے آپ کو گھر میں بھی سچا ثابت نہیں کرسکتا نیب کا قانون ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا ہے ہمارے ملک میں۔ پہلے دہشت گردی تھی آج پولیس گردی ہے 950 دن گزر گئے صرف لاک ڈون ہے ہو رہے ہیں ایک پاکستانی بہت زیادہ ٹکس دے رہا ہے زمیندار زمین پر ٹکس دیتا ہے 47قسم کے ٹیکس دیتا ہے ایشیا میں پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے ان سب مسائل کا حل اسلامی نظام ہے اس حکومت نے اسلامی نظام کیلے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ ملک میں گیس کی ڈیمانڈ زیادہ سپلائی کم ہے جہاں سے گیس پیدا ہوتی ہے وہاں کے رہنے والوں کو بھی ملنی چاہیے جس طرح ہمارا آئین اور قانون کہتا ہے 30سے 40 فی صد گیس پائپوں سے لیک ہو جاتی ہے اور گیس کے ریٹ بڑھا دیئے جاتے ہیں سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ کمر توڑ مہنگائی اور اور غذائی عدم تحفظ پر بات کرنا چاہتا ہوں ملک میں ٹڈی دل کا حملہ اور کرونا وائرس نے ملک میں مسائل پیدا کیے ہیں

دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے کرونا وائرس کا کس طرح سے مقابلہ کیا 63 اضلاع ٹڈی دل سے متاثر ہوئے تھے اور ہم نے اس کا مقابلہ کیا ہے اور اس کو شکست دی ہے آرمی اور این ڈی ایم کو داد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس چیلنج کا مقابلہ کیا ہے اس حکومت نے فوڈ سیکیورٹی کے لیے کام کیا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی 8فی صد ہے جو کے اب کم ہو رہی ہے بہت سے ممالک کی۔ ہم سے کہیں زیادہ مہنگائی ہے لیکن ہمیں بھی چند چیزوں پر مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اپوزیشن صرف مبالغہ آرائیوں سے کام لے رہی ہے ہماری حکومت غریب کا درد رکھتی ہے اس ملک میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا سنیٹر محمد اکرم نے کہا کہ ملک میں توانائی کا بحران آج کا نہیں ہے ہماری ساری انڈسٹری دوسرے ملکوں میں شفٹ ہو گئی ہے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ کسی پروگرام کانام احساس رکھنے احساس پیدا نہیں ہوتا اور ہر کوئی لنگر خانوں میں جا کر کھانا نہیں کھا سکتا ملک میں مہنگائی عروج پر ہے انہوں نے کہا کہ لائینیں بنا کر کھانا تقسیم کیا جاتا ہے اگر کسی کو دیا جائے اور اپنی مرضی کا کھائیں جس طرح سے یہ حکومت قانون سازی کرتی ہے اس طرح سے قانون سازی نہیں ہوتی روبینہ خالد نے کہا کہ ولید اقبال صاحب اگر بازار گئے تھے وہاں پر موجود لوگوں سے مہنگائی کا پوچھ لیتے احساس پروگرام کا نہ بتائیں بلکہ لوگوں کی تکالیف کو محسوس کریں سینیٹر اورنگزیب اورکزائی نے کہا کہ سینیٹ کے اجلاس میں ذاتی مسائل پر بات نہیں کی جانی چاہیے میری درخواست ہے اس معزز ایوان میں ذاتی مسائل لیکر نہ آئیں عدالتیں موجود ہیں اب احتساب سب کا ہو گا لیکن ذاتی مسائل ایوان میں نہ لائے جائیں سینیٹر رخسار زبیری نے کہا کہ ڈی جی آئل نے آئل کے تمام معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے آئل میں ملاوٹ کی جارہی ہے 13پاور کمپنیوں سے معاہدہ کیا گیا ہے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ اداروں میں ٹاپ کی پوسٹیں خالی پڑی ہیں

تو معاملات کیسے چل سکتے ہیں سینیٹر امام الدین شوقین نے کہا کہ ملک کی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے اور دوسرے ملکوں میں شفٹ ہو گئی ہے گیس سندھ سے پیدا ہوتی ہے لیکن ہمیں امپورٹڈ گیس دی جارہی ہے جو مہنگی ہے یہ زیادتی سندھ کے ساتھ کیوں کی جارہی ہے ہم نے مہنگی بجلی پیدا کر کے ملک بہت نقصان پہنچایا گیا ہے سابق حکومتوں کے ناکامی کی بات کی جاتی ہے لیکن میں نے آج تک پورے ملک سے بجلی غائب ہوتے نہیں دیکھی 49ارب روپے حکومت نے خرچ کیے لیکن اس کے باوجود نظر نہیں آ رہا انہوں نے کہا گندم ایکسپورٹ کرنے والا ملک ہے جس کو امپورٹ کرنے والا بنا دیا گیا ہے انہوں نے کہا مہنگائی عروج پر ہے ہر کھانے والی چیز مہنگی ہے لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں