لاہور/اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پنجاب میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کی خواتین اراکین نے قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی طور پر شادی کی عمر 16سال کی بجائے کم ازکم 18سال تک کی جائے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ شریعت میں جلد شادی کا حکم ہے میڈیکل سائنس بھی

کہتی ہے کہ بچوں کی بلوغت کے حوالے سے عمر کا تعین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہربچے میں بلوغت کی عمر مختلف ہے.
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے اس معاملے پر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیاقبلہ ایاز کے مطابق انگریز دور 1929 میں لڑکیوں کے لیے شادی کی عمر کم از کم 16سال مقرر کی گئی تھی اس کے بعد 1961 میں ایوب دور کے دوران بھی اسمبلی میں اس پر قانون سازی ہوئی اس میں بھی کم از کم16 سال عمر کی حد برقراررکھی گئی مگر اس پر بھی عمل نہیں ہوا.
سربراہ اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ خیبر پختونخوا، اندرون سندھ،پنجاب، بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں سے آئے روز اطلاعات موصول ہوتی ہیں کہ بارہ، تیرہ سال تک عمر کی بچیوں سے وڈیرے، جاگیردار، چوہدری یا سردار زبردستی شادیاں کر لیتے ہیں یا انہیں اٹھوا لیتے ہیںقبلہ ایاز نے کہا ہمیں اعتراض یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کو دیکھیں تو لڑکیوں کی شادی سے متعلق کوئی حد مقرر نہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں زمینی حقائق مختلف ہیں مثال کے طور پر اگر کوئی بچی میٹرک پاس کرتی ہے اور اس کی عمر پندرہ‘ سولہ سال ہے اور اس کا والد فوت ہوگیا، گھر میں کوئی مرد نہیں تو اس کی

بیوہ ماں اگر زندہ ہے تو وہ معاشرے میں اکیلی بچیوں کے ساتھ رہنے میں عدم تحفظ محسوس کرتی ہے، تو وہ اپنی بچیوں کی شادی کم عمر میں ہی فوری کرنا چاہتی ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟.انہوں نے کہا کہ اس کادوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی غریب آدمی کسی علاقے کے بااثر لوگوں سے اپنی بچیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جلد شادی کرتا ہے تو اسے کیسے روکا جاسکتاہے؟ان کا کہنا تھا کہ اگر قانونی طور پر کم از کم عمر18 سال مقرر ہوگی تو وہ کیسے اپنی مشکل حل کر سکیں گے؟قبلہ ایاز نے کہا کہ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ موجودہ معاشرتی صورتحال میں کم عمری کی شادیوں سے مسائل جنم لے رہے ہیں مگر اس کے لیے عوامی آگاہی ہی واحد حل ہے، تاکہ بلاوجہ یا بغیر کسی مجبوری کے، کم عمر میں لڑکیوں کی شادی سے والدین خود اجتناب کریں اور اس فعل کو معیوب سمجھیں، لیکن قانونی طور پر سب کے لیے یہ شرط لاگو کرنا مناسب نہیں.انہوں نے بتایاکہ پنجاب اسمبلی میں لڑکیوں کی شادی کی عمر16 سے بڑھا کر 18 سال کرنے کے لیے پیش ہونے والے بل پر بھی اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارشات دیں وہاں

بھی یہی موقف اپنایاکہ اس قانون کو تبدیل کرنے کی بجائے معاشرتی طور پر اس عمل کوروکنے کے اقدامات لازمی ہیں. برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے 2015 میں بھی یہ معاملہ اٹھایاگیاتھا اور متعلقہ قانون میں ترمیم کے لیے بھی کوششیں کی گئی مگر تاحال اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی.خواتین اراکین اسمبلی نے 2015 میں ایک ترمیمی بل بھی پیش کیا جو اب تک پاس نہیں ہوسکاگزشتہ برس ایک نجی تنظیم کے تحت اس بارے میں دستخطی مہم شروع ہوئی جس میں 22ہزار سے زائد افراد نے اپنی تصدیقی دستخط دیے کہ لڑکیوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18سال ہونی چاہیے. خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل نے کہا کہ چھوٹی عمر میں بچیوں کی شادی ایک معاشرتی برائی ہے جس کا پنجاب سے ہر صورت میں خاتمہ ہوناچاہیے ان کے خیال میں کم عمر بچیوں کی شادی کرنا نہ صرف ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ جذباتی طور پر بھی یہ ان سے ایک زیادتی ہے کیوں کہ چھوٹی عمر میں بچہ پیدا کرنے سے وہ ماں کی ذمہ داری پوری کر سکتی ہیں اور نہ ہی گھریلو ذمہ داری اداکرنے کے قابل ہوتی ہیں.

خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب مسلم لیگ( ن) کی رکن صوبائی اسمبلی بشری انجم بٹ نے بھی کم عمری میں شادی کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے اس قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیاجس میں لڑکیوں کے لیے عمر کی حد 16سال مقرر کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ چھوٹی عمر میں لڑکیوں کی شادی کرنا ان کی آزادی سلب کرنے کے برابر ہے۔ایسی روایات سے لڑکیاں نہ ہی تعلیم مکمل کرنے کا سوچ سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے بااختیارمحفوظ مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قابل رہتی ہیں.انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو بچپن سے ہی یہ احساس دلایاجاتاہے کہ ان کا واحد مقصد صرف شادی ہے اور وہ شاید اسی لیے پیدا ہوئی ہیں اس احساس سے ان کی ذہنی اور معاشرتی آزادی سلب ہوجاتی ہے انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) کی تمام خواتین اراکین اسمبلی کم عمری کی شادیوں کے خلاف ہیں اور اس معاملے پر قانون میں تبدیلی کے لیے اپنا بھرپور کردار اداکرنے کو تیار ہیں.

حکمران جماعت تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی عظمی کاردار نے کہاکہ قانون میں لڑکیوں کی عمر 16 سے بڑھا کر18 کرنی چاہیے اور اس پر عمل درآمد کے لیے دولہا اور دلہن کے لیے شناختی کارڈ کی شرط رکھی جائے تاکہ کم عمری میں شادی کے خواہش مند والدین بچیوں کی عمر چھپانہ سکیں. دوسری جانب مذہبی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ شریعت میں بچے یا بچی کی بلوغت کے حوالے سے عمر کی حد مقرر نہیں کچھ بچے 10سال یا اس سے بھی کم عمر میں بلوغت کی عمر تک پہنچ جاتے ہیں جبکہ بعض بچوں میں سن بلوغت مختلف ہے ممتازعالم دین مفتی مبشرربانی کا کہنا ہے کہ سوچنے والی بات یہ ہے کہ این جی اوز سے تعلق رکھنے والی جو خواتین مخصوص نشستوں پر منتخب ہوکرآئی ہیں انہیں ہی اس کی اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ خواتین استعفے دے کر جنرل الیکشن میں منتخب ہوکر آئیں اس کے بعد ہی یہ عوامی نمائندہ کہلانے کی حق دار ہیں ابھی وہ صرف اپنی جماعتوں کی جانب سے مخصوص نشستوں پر نامزدگیاں حاصل کرکے اسمبلیوں میں آئی ہیں.انہوں نے کہا کہ امریکا ‘برطانیہ سمیت دنیا کے کتنے ملکوں میں مخصوص نشستیں ہیں؟ہمارے اوپر ہی مخصوص عالمی ایجنڈے کے لیے 33فیصد مخصوص نشستیں مسلط کیوں کی گئی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں کو قومی خزانے پر مخصوص نشستوں کی صورت میں پڑنے والے بوجھ کو ختم کرنا چاہیے اگر یہ خواتین سیاست میں حصہ لینا چاہتی ہیں تو وہ جنرل نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے کرآئیں .

عالم دین مفتی حافظ زوار بہادر کا کہنا ہے کہ امریکا‘کینیڈا اور یورپ میں دس سے بارہ سال یا اس بھی کم عمر بچیاں مائیں نہیں بنتیں؟انہوں نے ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی دنیا میں چھوٹی عمر کے بچوں خصوصا لڑکیوں پر کم عمری جنسی تشدد کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے یہ این جی اوز اپنے ڈونرزکے سامنے ان بچوں کے حقوق کی پامالی پر احتجاج کیوں نہیں کرتیں؟ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کا نام لے کر معاشرے کو مغرب سے بھی بدتر بنانے کی شعوری کوشش کی جارہی ہے .
انہوں نے کہا کہ جس طرح مغرب میں شادی کا رحجان سرے سے ہی ختم کیوں ہوتا جارہا ہے اور یہ این جی اومارکہ خواتین بھی ہمارے معاشرے کو جنسی بے راہ روی کا شکار کرنا چاہ رہے ہیں جس طرح مغرب میں بن باپ کے بچے پیدا کرنے کے لیے تو عمر کی کوئی قید نہیں جبکہ شادی کو اس لیے مشکل بنادیا گیا ہے کہ وہاں اس رشتے کی اہمیت ہی نہیں رہی اور ایسی ہی معاشرت یہ خواتین چاہتی ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مسالک کے انتہائی پڑھے لکھے علماءکی نمائندگی ہوتی ہے لہذا اسلامی نظریاتی کونسل کا متفقہ فیصلہ تمام مسالک کی جانب سے ہوتا ہے اور یہ قرآن اور سنت کے عین مطابق ہوتا ہے ایسی باتیں کرکے یہ خواتین اپنے خلف کی خلاف ورزی کررہی ہیں جو انہوں نے آئین پاکستان کے تحت اٹھایا ہے یہ اس خلف اور آئین کی کھلی خلاف ورزی کررہی ہوتی ہیں کیونکہ آئین پاکستان میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ملک میں کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بن سکتا انہوں نے کہا کہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن بننے والی ایسی خواتین کے خلاف قانونی طور پر ان کی رکنیت ختم کرکے آئین شکنی کا مقدمہ بننا چاہیے.


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں