لاہور (streamhours) حکومت مخالفین کے خلاف بغاوت یا غداری کے مقدمات قائم ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں اور کسی کو غدار قرار دینے کا یہ سلسلہ نیا نہیں۔ قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد یہ سلسلہ قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح سے ہوتا ہوا خان عبدالغفار خان، اُن کے بیٹے


خان عبدالولی خان، نواب خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل، اکبر بگٹی، محمود خان اچکزئی اور اب نواز شریف کے ساتھ کشمیر کے وزیراعظم تک جاپہنچا ہے۔نامور کالم نگار مرزا اشتیاق بیگ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مقدمے میں نامزد مسلم لیگ (ن) کے کچھ قائدین نے غداری کے اِس مقدمے کو اپنے لئے ’’میڈل‘‘ قرار دیا جبکہ مقدمے میں نامزد سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطاء تارڑ جب اپنی گرفتاری دینے لاہور کے تھانہ شاہدرہ پہنچے تو اُنہیں بتایا گیا کہ غداری کا مقدمہ درج کرنے والے ایس ایچ او اور دیگر عملے کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ غداری کے مقدمے میں نامزد آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے بڑے تحمل اور بردباری کا ثبوت دیا، اگر وہ بھی کشمیری قیادت کے ساتھ اپنی گرفتاری دینے تھانہ شاہدرہ لاہور پہنچ جاتے تو یہ صورتحال نہ صرف حکومت کیلئے دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سبب بنتی بلکہ حکومت کو مسئلہ کشمیر کے معاملے پر بھی عالمی سطح پر ہزیمت اٹھانا پڑتی۔حکومت کا اپوزیشن کے خلاف بلاجواز مقدمات قائم کرنے کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن حال ہی میں یہ انکشاف کرچکے ہیں کہ ’’وزیراعظم نے اُنہیں بلاکر حکم دیا تھا کہ جج ارشد ملک کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر مریم نواز اور اْن کے ساتھ بیٹھے تمام مسلم لیگیوں پر آرٹیکل 6کا مقدمہ بنائیں لیکن جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اُنہیں فارغ کردیا گیا۔‘‘


قابل افسوس بات یہ ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل اور وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے مقدمے کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے لاہور پولیس کے سربراہ پر زور دیا کہ وہ ایک ٹیم تشکیل دے کر مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف فوری طور پر کارروائی شروع کریں، یہ سوچے بغیر کہ اس سے حکومت کو کچھ حاصل ہونے کے بجائے مزید ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔آج سے قبل جن افراد پر غداری کا لیبل لگایا گیا تھا، اُن کا تعلق سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے تھا مگر اب غداری کا لیبل لگنے والے صوبوں میں پنجاب اور آزاد کشمیر بھی شامل ہوگیا۔وزیراعظم آزاد کشمیر اور (ن) لیگ کی سینئر قیادت پر بغاوت کا مقدمہ بنانا حکومت کی احمقانہ حرکت تھی۔ وقت آگیا ہے کہ کسی محب وطن کو غدار ڈکلیئر کرنے کا یہ سلسلہ بند کیا جائے۔ غداری کے مقدمے میں نامزد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اِس ملک کی ترقی و خوشحالی میں جتنا حصہ ڈالا، شاید ہی کسی اور وزیراعظم کے حصے میں آیا۔ زیادہ اچھا ہوتا کہ حکومت اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد افراد سے معذرت کرتی اور دیگر لوگوں کے ساتھ 3 بار منتخب ہونے والے وزیراعظم میاں نواز شریف کا نام بھی مقدمے سے خارج کرتی۔غداری کا یہ مقدمہ پوری قوم کیلئے باعث تشویش بنا اور قوم یہ قبول کرنے کو تیار نہیں کہ امریکہ کے شدید دبائو کے باوجود بھارت کے 5ایٹمی بلاسٹس کے بدلے 6ایٹمی بلاسٹس کرکے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والا، ملک بالخصوص کراچی سے بدامنی ختم کرنے والا، ملک کو اندھیروں سے نکالنے والا اور موٹر ویز کا جال بچھانے والا جہاں آج پاکستان ایئر فورس کے طیارے ایمرجنسی صورتحال میں اترنے کی مشق کررہے ہیں، ملک اور قوم کا غدار نہیں ہو سکتا۔








Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں