لاہور (streamhours) گوجرانوالہ وسطی پنجاب کے عین قلب میں واقعہ ہے ’’ووٹ بینک‘‘ کے حوالے سے یہ نوازشریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کا گڑھ ہے۔ سیالکوٹ، شیخوپورہ،نارووال،وزیر آباد اور شکرگڑھ جیسے اضلاع اور ان کے مضافاتی علاقوں سے یہاں تک پہنچنے کے لئے دو سے زیادہ گھنٹے درکار نہیں۔


نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔لاہور کے ساتھ بھی ایسا ہی عالم ہے۔اس شہر میں اگر ’’لاکھوں کا مجمع‘‘ اکٹھا ہوجائے تو ہرگز کوئی ’’انقلابی‘‘ پیغام نہیں دے گا۔موسلادھار بارش کی طرح برس کرگزرجائے گا۔’’پنجاب پلس‘‘ کو اسے روکنے کے لئے ’’آنیاں جانیاں‘‘ میں لہٰذا اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔افسر شاہی مگر ’’پھرتیاں‘‘ نہ دکھائے تو خود کو حکمرانوں کے روبرو ’’مستعد‘‘ کیسے ثابت کرے؟ یہ ’’مستعدی‘‘ اگرچہ لاہور سیالکوٹ ہائی وے پر ایک خاتون کی بے حرمتی کے مرتکب درندے کو بازیاب کرنے میں ڈیڑھ مہینہ لگادیتی ہے۔یہ ’’بازیابی‘‘ بھی بنیادی طورپر ان جدید ترین آلات ِجاسوسی کی وجہ سے ممکن ہوئی جو بدامنی کے خلاف لڑائی کے دنوں میں ہماری سرکار کو امریکہ جیسے ممالک سے تحفے میں ملے تھے۔ کرونا کے دنوں میں TTQکے نام پر اس ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال ہوا۔موبائل فون میں موجود ’’مخبری‘‘ کے کرشمے۔اس کے باوجود ’’فرض شناس‘‘ افسروں نے فراخ دل ’’وسیم اکرم پلس‘‘ سے 50لاکھ روپے انعام کی صورت حاصل کرلئے۔’’پنجاب پلس‘‘ کی گوجرانوالہ کا جلسہ ’’ناکام‘‘ بنانے کے لئے برتی پھرتیوں کا بغور جائزہ لیں تو بآسانی دریافت ہوجائے گا کہ ان کا تمام تر فوکس ان چودھریوں کے ڈیروں پر ہے جہاں قمر زمان کائرہ ،اویس لغاری اور رانا ثناء اللہ جیسے ’’سیاسی‘‘ اپنے کارکنوں سے ملنا چاہ رہے ہیں’’پنجاب پلس‘‘ کے کسی ’’فرض شناس‘‘ افسر کو میں نے ایسے اداروں کی ’’تلاشی‘‘لیتے مگر نہیں دیکھا۔اسلام آباد میں اپنے گھر تک محدود ہوا اعتماد سے بیان کرسکتا ہوں کہ ایسے کئی اداروں میں سینکڑوں کارکن 16اکتوبر کے اجتماع میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے کئی روز قبل پہنچ چکے ہوں گے۔مولانا فضل الرحمن کو گوجرانوالہ جانے سے روکا گیا تو جی ٹی روڈ پر ’’اصل جلوہ‘‘ یہ کارکن ہی دکھائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ مریم نواز صاحبہ اور بلاول بھٹو زرداری کو 16اکتوبر کے روز جلوسوں سمیت گوجرانوالہ جانے دیں۔ایک ہی دن کی توبات ہے۔آئے گا اور گزرجائے گا۔









Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/mymetrom/public_html/wp-content/themes/pinblog-urdu/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں